لکھنؤ، 08 فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دارالحکومت میں سرخیوں میں چھائے شرون قتل میں انصاف کے لئے متاثرہ خاندان نے کورٹ میں پناہ لی۔ لکھنؤ ہائی کورٹ کی بنچ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حکومت سے تین سوال کئے ہیں۔ سوالات کے جوابات ملنے تک کے لئے کورٹ نے اگلی تاریخ 21 فروری کو دی ہے۔ بتاتے چلے کہ بیٹے آیوش کے قاتلوں کو سزا دلانے کے لئے حکام کے چکر کاٹنے والے تیل تاجر شرون ساہو کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔یکم فروری کو بدمعاشوں نے اس واقعہ کو انجام دیا، اس کے بعد سے پولیس ان کی تلاش میں لگی ہوئی ہے۔ ادھر انصاف نہ ملنے اور پولیس کے لچر طریقہ کار کو دیکھتے متاثرہ خاندان نے کورٹ میں پناہ لی۔کورٹ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور یوپی حکومت نے تین سوالات کے جواب مانگے ہیں۔ سب سے پہلے آیوش کے قتل میں اہم گواہوں کوسیکورٹی کیوں نہیں دی گئی، مقتول کے خاندان کو پولیس کی حفاظت اور والد شرون کے لیے اسلحہ لائسنس کیوں نہیں دیا گیا۔ متاثرہ خاندان کو کیوں نہ معاوضہ دیا جائے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ان سوالات کے جواب کو لے کر کورٹ نے یوپی حکومت کو طلب کیا اور 21 فروری تک جواب مانگے ہے، ساتھ ہی حکومت سی بی آئی جانچ کو بھی تیار ہے۔مانگے گئے تین سوالوں کے جواب کے بعد عدالت نے اگلی تاریخ دی ہے۔